بھٹکل:22/نومبر (ایس او نیوز) انجمن بی بی اے کالج بھٹکل میں 10سالوں تک پرنسپال کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے بہترین خدمات انجام دینے والے گورنمنٹ پی یو کالج چکوڑی میں کامرس کے لکچرر محمد ظفر اللہ کوکٹنور (42) کا وجئے پورہ (بیجاپور )میں منگل کی صبح دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
باگلکوٹ ضلع جمکھنڈی سے تعلق رکھنے والے ظفر اللہ بھٹکل میں اپنے بے شمار شاگردوں کے ساتھ ہم پیشہ ساتھیوں ، دوستوں وغیرہ میں یکساں مقبول تھے۔ گھروالوں سے ملی اطلاعات کے مطابق پیر کی دیررات تک بالکل ہشاش بشاش نظر آئے تھے ، البتہ پچھلے دودنوں سے کچھ بے اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے کمزوری محسوس کررہے تھے۔ یہی وجہ بھی تھی کہ چکوڑی سے نکل کر اپنے سسرا ل وجئے پورہ آگئے تھے۔ اور رات میں موبائیل کے ذریعے اپنے کئی دوستوں سے بات چیت بھی کی تھی ۔ لیکن صبح میں اچانک قریب 8بجے غش کھا کر گرپڑے ، فوراً انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ اپنی آخری سانس لے چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کی تدفین ان کے گاؤں جمکھنڈی میں منگل کوہی بعد نماز عشاء ادا کی گئی ۔
پسماندگان میں بیوی اور بیٹیاں ہیں۔ مرحوم کی زوجہ صبیحہ نے انجمن پی یو کالج فار ویمن میں بطور بیالوجی لکچرر کے اپنی خدمات انجام دینےکے بعد اپنے شوہر کے ساتھ ان کا بھی وجےپورہ ضلع کے انڈی تعلقہ میں سرکاری ہائی اسکول میں بطور سائنس ٹیچر تقررہوا۔جہاں وہ اپنی تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ہنس مکھ چہرہ، درمیانی قدوقامت اور اپنے کالج ساتھیوں سمیت طلبا میں یکساں طورپر مقبول تھے۔ایڈمنسٹریشن کے تمام گُر انہیں معلوم تھے یہی وجہ ہے کہ ان کے زمانے میں انجمن بی بی اے کالج بہترین نتائج پیش کرتی رہی۔ انجمن پی یو کالج میں بطور لکچرر ان کا تقرر ہوا تھا تو ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں ایک ہی سال میں انجمن انتظامیہ نے بی بی اے کالج میں پرنسپال کے عہدہ پر فائز کیا تھا۔
کرناٹکا یونیورسٹی دھارواڑ سے ایم کام کرنے کے بعد وہ تدریسی میدان سے وابستہ ہوئے تھے۔ ہائی اسکول کے زمانے سے ہی کرکٹ اور بیڈمنٹن کے بہترین کھلاڑی کے طورپر مشہور رہے ہیں۔ کرناٹکا یونیورسٹی کے بیڈمنٹن میں یونیورسٹی بلیو اور کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تھے۔ بھٹکل میں بھی کئی بیڈمنٹن ٹورنامنٹ میں بہترین کھیل کا مظاہرہ پیش کرتے ہوئے چمپئین شپ حاصل کرچکے ہیں۔ ان کے انتقال پر انجمن انتطامیہ کے عہدیداران ، اساتذہ اور سیکڑوں شاگردوں نے گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے مغفرت کی دعا کی ہے ۔